رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا
ابنِ حیدرؑ کا حوالہ بھی ہے حیدرؑ جیسا
بہتے دریاؤں نے جھک جھک کے سلامی دی تھی
ظرف اس تشنہ دہن کا تھا سمندر جیسا
اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو
زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا
یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں
آسماں لگتا ہے زینبؑ تری چادر جیسا
پھر گئی ہی نہیں ویرانیِ باغِ دنیا
پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغرؑ جیسا
ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں
کیا جوانوں میں جواں ہے کوئی اکبرؑ جیسا
جو ترے تھے وہ اندھیرے میں بھی تیرے ہی رہے
کوئی لشکر نہیں دیکھا تیرے لشکر جیسا
